اہم خبریں

پی ٹی آئی راہنمائوں کی کل گرفتاریاں کیوں کی گئیں،شیر افضل مروت نے عدالت میں اصل کہانی سنادی

اسلام آباد (اے بی این نیوز       ) شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ اگر کوئی ثبوت ہیں کہ ایک ویڈیو کلپ ہی دکھا دیں ۔ میں سولہ سال تک جج رہا 32 سال ہو گئے شعیب شاہین کو 35 سال ہو گئے وکالت کرتے ہوئے۔

کیا میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کر سکتا ہوں۔ پراسکیوشن کا کیس صرف زبانی الزامات پر مشکل ہے۔ باوردی پولیس اہلکاروں کو سب مار رہے تھے مندر کا گھنٹا بنا دیا پولیس کیا کرتی رہی۔ این او سی نہ لینے پر جرم بنتا ہے شرائط کی خلاف ورزی پر نہیں بنتا۔

علی امین سٹیج پر موجود تھے کیا چیف منسٹر ایسا کر سکتا ہے۔ وہ کوئی عام چیف منسٹر تو نہیں ناں جج ابو الحسنات کی بات پر عدالت میں قہقہے۔ شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ شعیب شاہین کو کہتے ہیں پستول رکھا اس نے تو کبھی بٹیر نہیں رکھا شریف آدمی ہے۔
میرے پاس تو ہر وقت پستول ہوتا ہے میرا پستول اس وقت گاڑی میں تھا۔ مریم نواز کے غصے کی تسکین کے لئے آئی جی نے یہ سب کیا۔پولیس کو گمان ہے کہ آپ کی عدالت سے پراسکیوشن کو ریلیف ملے گا جو کچہری سے ممکن نہیں۔
ہم پارلیمان کے نمائندے ہیں لاکھوں لوگوں کے نمائندے ہیں ۔ ہم 57ایم این اے ایز تھے 250 پولیس والے تھے اور ہمارے پاس 300 گارڈر تھے میں نے مشورہ دیا کہ دنگل کر لیتے ہیں
میرے دوستوں نے میرا مشورہ نہیں مانا ورنہ لگ پتہ جاتا۔ اچھا تو آپ کا پروگرام تھا ۔ جج ابو الحسنات ذوالقرنین کے ریمارکس پر عدالت میں پھر قہقہے۔ رات کے تین بجے پارلیمنٹ میں گھس کر گرفتار کیا۔

ابھی پتہ چلا کہ بیرسٹر گوہر ڈسچارج ہو گئے ایسی کیا چیز ہے کہ ہمیں آپ کے آگے پیش کیا اور بیرسٹر گوہر کو ڈسچارج کر دیا ۔ جج ابو الحسنات ذولقرنین نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے پاس کلاشنکوف نہیں تھی آپ کے پاس ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے پاس پستول ہے کلاشنکوف آپ نے بنا دی۔ جتنی آپ کی طاقت ہے آپ ریمانڈ دے دیں پراسکیوشن طلاق پر قسم دے۔ جج ابو الحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیئے کہ کیا پتہ بندہ غیر شادی شدہ ہو۔ شیر افضل مروت کے دلائل مکمل ہو گئے۔

مزید پڑھیں : عمران خان کو رہا کرا نےلشکر لے کر آ ئیں،ہم اٹک پل پر انتظار کریں گے،وزیر دفا ع

متعلقہ خبریں