اسلام آباد (اے بی این نیوز) بظاہر بانی پی ٹی آئی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی۔ آپ اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں دی؟ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے موکل کو فائدہ ہو۔ خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے، کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا۔ چیف جسٹس کے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر ریمارکس۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئے کہ کیا برطانیہ میں نیب جیسا ادارہ ہے؟پھر نیب پر آپ کو اتنا اعتماد کیوں ہے۔ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے، خواجہ حارث نےکہا کہ دیئےکہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے۔ مجھے نیب پر اعتماد نہیں میں قانون کی بات کررہا ہوں۔
سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا۔ نیب کی 2023 ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں، اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے۔ 460 ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کردئیےتھے۔
بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی یا رضاکارانہ رقم واپسی؟ رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتاہے۔ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھاہے۔
دوسرے خلیفہ سے ان کے کرتے کا سوال پوچھا گیا تھا۔ عام آدمی تو بیچارہ کمزور ہوتا ہے ۔ 9اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا، ایمنسٹی سے فوجداری پہلوختم نہیں ہوا۔
ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس د یئے کہ ہمارے خلیفہ سے جس نے پوچھا تھا؟ عام آدمی نے پوچھا تھا نا۔
عام آدمی آج بھی پوچھ سکتا ہے۔ آپ عوام کی طاقت، ووٹر کی طاقت کو کمزور کیوں کہہ رہے ہیں، اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی رضاکارانہ واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے، ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتا۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا عوام کا پیسہ لوٹا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جمال نے ریمارکس دیئےا گر کوئی سیکرٹری کرپشن سے انکار کرے تو سیاستدان کیا کر سکتا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا اگر سیکرٹری احکامات پر عمل کرے تو حکم دینے والا وزیر کیسے کرپٹ نہیں ہو گا
مزید پڑھیں :بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات، حکومت نے سپریم کورٹ دستاویزات جمع کرا دیں















