اسلام آباد(محمد بشارت راجہ) تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے لیول پلیئنگ فیلڈ کیس کی درخواست واپس لے لی لطیف کھوسہ بولے تحریک انصاف سے فیلڈ ہی چھین لی پارٹی کا شیرازہ ہی بکھیر دیا گیا اب لیول پلینگ فلیڈ کیسی؟ چیف جسٹس نے کہاکہ فیصلے کا ملبہ ہم پرنہ ڈالیں باربارکہا تھا انٹراپارٹی انتخابات کاہونا دکھا دیں،آپ کوفیصلہ پسند نہیں توکچھ نہیں کرسکتے چیف جسٹس قاضی فاٸزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ پیش ہوئے اور کہا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں،مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے۔۔ چیف جسٹس نےاسفتسار کیا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ ،آپ نے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنا ہے کریں، نہیں کرنا نہ کریں۔لطیف کھوسہ بولے کہ آپ نے تو پی ٹی آئی کی فیلڈ ہی چھین لی، تحریک انصاف کا شیرازہ ہی بکھیر دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن صرف انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے، ایک جماعت کو پارلیمان سے باہر کرکے بین کیا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی کے تمام امیدوار آزاد انتخابات لڑیں گےاور کنفیوژن کا شکار ہوں گے ۔ انتخابات بالکل غیرمنصفانہ ہیں۔۔۔ ہم نے عدلیہ کیلئے خون دیا، قربانیاں دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں۔۔۔دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں، بار بار کہا تھا کہ دکھا دیں انٹراپارٹی انتخابات کا ہونا دکھا دیں۔۔۔ الیکشن کمیشن کہتا رہا پارٹی انتخابات کرائیں لیکن نہیں کرائے گئے، کسی اور سیاسی جماعت پر اعتراض ہے تو درخواست لے آئیں۔۔ہمارے سامنے الیکشن کا معاملہ اٹھا، ہم نے تاریخ دلوائی ، کیا آپ تاریخ دلوا سکے تھے؟ قانون ہم نہیں بناتے ، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون نہیں پسند تو بدل دیں۔آپ کو فیصلہ پسند نہیں تو کچھ نہیں کر سکتے۔۔لیول پلیئنگ فیلڈ پر ہم نے حکم جاری کیا تھا، عدالت حکم دے سکتی ہے حکومت نہیں بن سکتی۔۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس دیا، تحریک انصاف کو کیوں نہیں؟ ۔۔چیف جسٹس بولے کہ ہمیں کل پتہ چلا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے آئین کے مطابق ابھی وقت موجود تھا، اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو نشان واپس لوٹایا۔۔۔لطیف کھوسہ صاحب یہ درست طریقہ کار نہیں ہے، آپ سینئر وکیل ہیں۔۔۔آپ پاکستان کے سارے ادارے تباہ کررہے ہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی کے استفسار پرلطیف کھوسہ نے کہا ہمیں اتحاد بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ جسٹس مسرت ہلالی الیکشن کمیشن حکام سے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن فئیر نہیں ہے، الیکشن کمیشن ایک پارٹی کے پیچھے بھاگ رہا ہے، اسے دوسری سیاسی جماعتیں نظر نہیں آتیں ؟ عدالت نے درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔















