Your theme is not active, some feature may not work. Buy a valid license from stylothemes.com

ڈی جی ہیلتھ آزادکشمیر نے اپنے سارے رشتہ دار محکمہ صحت میں بھرتی کر لئے، 22 ایمبولینسز کی خریداری میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف

مظفرآباد(نیوزڈیسک)ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزادکشمیر نے اپنے سارے رشتہ دار محکمہ صحت میں بھرتی کر لئے۔ 22 ایمبولینسز کی خریداری میں کروڑوں کی کرپشن کی۔ آلات جراحی اور ادویات کی خرید میں بھی لوٹ مار کی اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا، ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر آفتاب حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ انجمن حقوق صارفین آزاد کشمیر کے صدر شاہد زمان اعوان نے ڈی جی ہیلتھ کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواست دے دی۔ تمام ثبوت اینٹی کرپشن کو پیش کیے جائیں گے۔ تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن کو دی گئی درخواست میں انجمن حقوق صارفین کے صدر نے موقف اختیار کیا کہ ڈی جی ہیلتھ نے اختیارات کے مغائر اپنے 20 رشتے دار محکمہ صحت میں بھرتی کر لیے ہیں جن میں افضال اشرف جونئیر ٹیکنیشن بھانجا، مبشر عارف جونئیر کلرک خالہ زاد بھائی، محمد علی اٹینڈنٹ قریبی عزیز، اظہر عارف وہیکل مکینک خالہ زاد بھائی، مسز اظہر عارف ہیلتھ ورکر خالہ زاد کی زوجہ، وسیم جبار جونئیر ٹیکنیشن خالہ زاد بھائی، وحید جبار جونئیر ٹیکنیشن خالہ زاد بھائی، عبدالبصیر جونئیر ٹیکنیشن چچا زاد بھائی، زریاب خان جونئیر ٹیکنیشن چچا زاد بھائی، طاہر اشرف جونئیر ٹیکنیشن چچا زاد بھائی، ضمام امتیاز جونئیر کلرک بھتیجا، کنول ضمام بھتیجے کی زوجہ، اناب علی جونئیر کلرک بھتیجا، فاران نسیم اٹینڈنٹ دوست کا بیٹا، کامران نسیم اٹینڈنٹ دوست کا بیٹا، نقاش مشتاق اٹینڈنٹ قریبی عزیز، ماریہ جاوید اٹینڈنٹ ڈرائیور کی بیٹی، محمد مزمل اٹینڈنٹ قریبی عزیز، زوہاب شمریز اٹینڈنٹ قریبی عزیز اور ساجد خلیل قریبی عزیز شامل ہیں۔ درخواست میں لکھا گیا ہے کہ ڈی جی ہیلتھ نے مخصوص کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے طاہر عزیز نامی نان ٹیکنیکل بندے کو تمام پرچیز کمیٹیوں میں شامل کر رکھا ہے جس کے ذریعے ناقص ادویات اور آلات جراحی خریدے گئے ہیں اور حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگایا گیا ہے۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر آفتاب نے حال ہی میں 2022ء ماڈل کی ایمبولینسز خریدیں اور قیمت 2023ء ماڈل گاڑیوں کی ادا کرتے ہوئے حکومت کو کروڑوں روپے کا بھاری نقصان پہنچایا، موصوف دانستہ سنگین کرپشن اور اقربا پروری میں ملوث ہیں اور انسانی جانوں کی قیمت پر لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ شاہد اعوان نے درخواست میں وزیراعظم آزاد کشمیر کو ڈی جی اینٹی کرپشن سے درخواست کی ہے کہ ڈی جی ہیلتھ کے خلاف متذکرہ جرائم کی تحقیقات عمل میں لائی جائیں اور ایف آئی آر درج کی جائے۔