اہم خبریں

مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، پارٹی قیادت دست و گریباں

مظفرآباد(اے بی این نیوز)آزاد کشمیر میں انتخابات سے چند ماہ قبل پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور پارٹی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔

سابق وزیرِ حکومت اور مسلم لیگ ن کے سیکریٹری اطلاعات افتخار گیلانی نے واضح کیا ہے کہ بدھ کو سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں بعض ممبرانِ اسمبلی کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کا پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

افتخار گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر پی ٹی آئی یا اس کے منحرف اراکین کے ساتھ حکومت مخالف سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوگی۔

ان کے بقول مسلم لیگ ن انتشار یا سیاسی عدم استحکام کو برداشت نہیں کرے گی اور کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گی جو علاقے میں سیاسی بحران کا سبب بنے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ایسے انتشاری عناصر کے ساتھ کوئی تعلق رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی میں آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔

’آزاد کشمیر میں نیا وزیراعظم آنے والا ہے‘
قبل ازیں صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر نے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ آزاد کشمیر میں نیا وزیراعظم آنے والا ہے۔

شاہ غلام قادر نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے اور اگر ان کا رویہ درست نہ ہوا تو عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کا دور قریب ہے، اس لیے فی الحال ہم نظر انداز کر رہے ہیں، اور خیال تھا کہ موجودہ حکومت انتخابات تک ایک عارضی انتظام کے طور پر رہے گی۔ تاہم پانچویں وزیراعظم کے آنے کی پیش گوئی حقیقت بنتی نظر آ رہی ہے۔

’ شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر کی پریس کانفرنس پر سوالات ‘
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل طارق فاروق نے بھی شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر کی اپوزیشن ممبران کے ساتھ پریس کانفرنس پر سوالات اٹھا دیے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر ایک منظم، نظریاتی اور جمہوری سیاسی جماعت ہے جس کے تمام اہم سیاسی فیصلے اور پالیسی معاملات ہمیشہ جماعت کے پالیسی ساز اداروں کی اجتماعی مشاورت کے ذریعے طے ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور متحدہ اپوزیشن کی آج کی پریس کانفرنس کے تناظر میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایسے حساس اور اہم معاملات، جو جماعتی حکمتِ عملی، سیاسی مؤقف اور کارکنان کے اعتماد سے براہِ راست وابستہ ہوں، انہیں جماعت کے مرکزی صدر نواز شریف، شہباز شریف، مرکزی متعلقہ فورمز، مرکزی سیاسی کمیٹی، مرکزی عہدیداران یا مجلسِ عاملہ میں زیرِ بحث لانا ہی تنظیمی نظم و ضبط اور جمہوری روایت کا تقاضا ہے۔

مزید پڑھیں۔

متعلقہ خبریں