اسلام آباد (رضوان عباسی )آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی ماہ سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا زیرِ التوا معاملہ بالآخر حل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں چیئرمین الیکشن کمیشن کی تقرری کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت سابق چیف جسٹس غلام مصطفیٰ مغل کو چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق سمری پر چیئرمین کشمیر کونسل اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کر دیے ہیں۔ سمری کی منظوری کے بعد اسے وزارتِ امورِ کشمیر کے ذریعے صدر آزاد کشمیر کے دفتر کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے تین نام وزیر اعظم پاکستان کو بھجوائے گئے تھے۔
یہ منظوری ایک نہایت اہم موقع پر سامنے آئی ہے، کیونکہ صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر کے انتخاب میں صرف بارہ دن باقی ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں تقریباً ساڑھے پانچ ماہ رہ گئے ہیں۔ زرائع کے مطابق اس تقرری سے انتخابی عمل کی شفافیت اور آئینی تسلسل کو تقویت ملے گی۔
جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے آزاد جموں و کشمیر کی عدلیہ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ وہ 30 جنوری 2002ء کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، بعد ازاں 4 جنوری 2010ء کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 18 فروری 2016ء کو انہیں چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر مقرر کیا گیا، جہاں ان کی زیرِ نگرانی شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کرائے گئے۔
بعد ازاں 30 مارچ 2017ء کو جسٹس غلام مصطفیٰ مغل آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے اور اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد 2020ء کے آخر یا 2021ء کے آغاز میں ریٹائرڈ ہوئے۔ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کئی اہم اور تاریخی فیصلوں کے باعث ایک معتبر عدالتی شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
ان کا تعلق مظفرآباد کے گاؤں بلگران سے ہے، جہاں وہ 25 دسمبر 1955ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج مظفرآباد اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1980ء کی دہائی میں وکالت سے اپنے عملی کیریئر کا آغاز کیا۔ عدالتی اصلاحات، انصاف تک عوامی رسائی اور عدالتی وقار کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کو عدالتی حلقوں میں سراہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں اسمارٹ موبائل فون کی قیمتوں میں زبردست اضافہ















