اسلام آباد (رضوان عباسی سے ) آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ صحت کے لیے خریدی گئی 24 ایمبولینسز کے معاملے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ٹویوٹا انڈس موٹرز اور ٹویوٹا آزاد موٹرز سے تحقیقات کے تحت 10 دن کے اندر مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
اے بی این نیوز کو حاصل دستاویزات کے مطابق، ٹویوٹا آزاد موٹرز نے 8 مئی 2023 کو محکمہ صحت آزاد کشمیر کے لیے ٹویوٹا ہائی ایس کمیوٹر ہائی روف ایمبولینس 2023 ماڈل کی سپلائی کا معاہدہ کیا تھا، جس کی فی گاڑی قیمت 17.74 ملین روپے طے کی گئی۔ حیران کن طور پر، کمپنی نے بعد میں فی گاڑی 1.9 ملین روپے کی بڑی رعایت دی اور 15.8 ملین روپے فی گاڑی کے حساب سے معاہدہ مکمل کیا۔
تاہم، سپلائی کے وقت کمپنی نے 2023 ماڈل کی بجائے 2022 ماڈل گاڑیاں فراہم کیں، جو کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سپلائی کی گئی گاڑیوں کا کوئی ریکارڈ ٹویوٹا کمپنی کی ویب سائٹ اور محکمہ ایکسائز کے ٹیکس پورٹل پر موجود نہیں، جس سے ان گاڑیوں کی درآمد اور ادائیگیوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ٹویوٹا کمپنی نے ان گاڑیوں کے بل آف لیڈنگ کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کیں، جس سے گاڑیوں کی اسمبلی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور قومی خزانے کو 14.73 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
مزید برآں، اسی ماڈل کی گاڑیاں آزاد کشمیر حکومت کے ایک اور محکمے کو 9.7 ملین روپے فی گاڑی کے حساب سے فروخت کی گئیں، جبکہ محکمہ صحت کو 6.14 ملین روپے زائد قیمت پر فروخت کی گئیں، جس سے اربوں روپے کی مالی بدعنوانی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
حکومت نے کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 10 روز کے اندر بل آف لیڈنگ، ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات، اور قیمتوں میں فرق کی وضاحت فراہم کریں، بصورتِ دیگر معاملے کو سنجیدہ مالیاتی بدعنوانی تصور کیا جائے گا اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: افغان شہریوں کیخلاف آپریشن تیز،140 سے زائد کو حراست میں لیا گیا