Your theme is not active, some feature may not work. Buy a valid license from stylothemes.com

اسرائیلی وزیربن گوریا کا مسجد اقصیٰ کا دورہ، فلسطینیوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی

بیت المقدس(نیوزڈیسک) انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے سخت سکیورٹی میں مسجد اقصٰی کا اشتعال انگیز دورہ کیا ۔ جس کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ اسرائیلی وزیرکا عہدہ سنبھالنے کے بعدیہ پہلا دورہ تھا۔ فلسطینی حکام کا اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ کا دورہ اشتعال انگیز قرار دیدیا ۔فلسطینی تحریک حماس کی جانب سے اس طرح کے کسی بھی اقدام پر انتباہ جاری کیا گیا جس کے بعد بن گویر نے اپنے ترجمان کی طرف سے شائع کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری حکومت حماس کی دھمکیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
صہیونی وزیر بن گویر کے اس دورہ پر رد عمل دیتے ہوئے فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ انتہا پسند وزیر بن گویر کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر حملے کی شدید مذمت کرتی ہے اور اسے ایک غیر معمولی اشتعال انگیزی اور تنازع میں خطرناک اضافہ سمجھتی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اہلکاروں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ مغربی کنارے میں جھڑپ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی بچے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

وائے نیٹ نیوز ویب سائٹ نے بن گویر کی بھاری حفاظتی انتظامات میں کمپاؤنڈ کے ارد گرد چہل قدمی کی تصاویر شائع کردیں ۔ حزب اختلاف کے رہنما اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپڈ نے خبردار کیا تھا کہ بن گویر کا دورہ تشدد کو ہوا دے سکتا ہے۔
بن گویر نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کی سربراہی میں نئی حکومت کے اندر حلف اٹھایا تھا جس میں انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔