ترکیہ و شام کے زلزلے میں غیرمعمولی ہلاکتوں کی سائنسی وجہ سامنےآگئی

انقرہ(نیوزڈیسک) زلزلوں کی ممتاز ماہر اور بوسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر راشیل ایبرکرومبی نے بتایاہے کہ ترکیہ میں ٹیکٹونی لحاظ سے بہت سرگرم علاقہ ہے۔ مثلاً یہ زلزلہ شمالی اناطولیہ فالٹ اور مشرقی اناطولیہ فالٹ کی وجہ سے رونما ہوا اور ان دونوں کے درمیان پھسلن کی سالانہ شرح6 سے 10 ملی میٹر تھی۔ اس پھسلن سے ترکیہ بحیرہ روم کی جانب کھسک رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ اس زلزلے کا مرکز(ایپی سینٹر) مشہور شہر غازیان تپ تھا جہاں پہلے ہی ہزاروں شامی پناہ گزین مقیم ہیں جو تباہ شدہ شامی شہرحلب سے یہاں پہنچے تھے۔ یوایس جیولوجیکل سروے (یوایس جی ایس) کے مطابق اس خطے میں قائم عمارتوں کی تعمیر میں کسی بھی قسم کے بلڈنگ کوڈ کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے غیرمعمولی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تاہم ڈاکٹرراشیل کا اصرار ہے کہ اگرعمارتیں بین الاقوامی زلزلے کے کوڈ کے تحت بھی بنائی جاسکتیں تب بھی اس تباہی میں معمولی ہی کمی واقع ہوتی کیونکہ زلزلہ بہت شدید اور اس کا مرکز کم گہرا تھا۔ڈاکٹر راشیل کے مطابق مشرقی اناطولیہ فالٹ میں بڑے زلزلے کا امکان ہر 100 یا 200 سال تک ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ اور شام میں غیرمعمولی زلزلے کی ایک وجہ پلیٹ ٹیکٹونی کی پیچیدہ حرکت ہے جو حقیقت میں V شکل کی ہےکیونکہ ترکیہ مغرب کی طرف جارہا ہے اور یونان اس سے پرے ہٹ رہا ہے۔