القاعدہ کا نیا سربراہ سیف العادل ایران میں ہے، اقوام متحدہ

نیویارک(نیوزڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکیورٹی ماہرین کی نئی رپورٹ کے مطابق 1998 میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کا ملزم سیف العادل ممکنہ طور پر القاعدہ کا نیا سربراہ ہے اور ایران میں موجود ہے۔سیف العادل مصر کی فوج کا سابق افسر ہے، اس نے 1979 میں افغانستان پر حملہ آور سوویت فوج کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔وہ القاعدہ کا رکن بھی تھا اور اسامہ بن لادن کا خاص آدمی تصور کیا جاتا تھا۔کہا جاتا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ایک ماسٹر مائنڈ سیف العادل بھی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پچھلے سال امریکی فوج نے افغانستان میں ایمن الظواہری کو ہلاک کیا تھا، سیکیورٹی ماہرین کا کہنا تھا کہ سیف العادل القاعدہ کا نیا رہنما ہو گا۔امریکی حکام نے اس کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے عوامی سطح پر سیف کو اپنا نیا رہنما قرار نہیں دیا جس کی ممکنہ وجہ افغانستان میں طالبان حکومت کی سیاسی حساسیت ہوسکتی ہے۔مبینہ دہشتگرد رہنما 1960 کے اوائل میں پیدا ہوا۔ وہ 2002 یا 2003 سے ایران میں ہے، 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سیف العادل روپوش ہوگیا تھا۔