تل ابیب (اے بی این نیوز)اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف کرپشن الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جب ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ اور مبینہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک دستاویزی مواد اور ویڈیو پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ شواہد نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد انہیں عدالتی کارروائی اور ممکنہ طور پر جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اسلحہ کے تاجروں سے قیمتی تحائف حاصل کیے اور اس کے بدلے انہیں کاروباری فوائد فراہم کیے۔ مزید یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ پولیس تحقیقات کے دوران انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے تحائف لینے کا اعتراف کیا۔رپورٹس میں ایک مبینہ ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں انہیں انکوائری افسران کو دھمکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس حوالے سے نیتن یاہو یا ان کے دفتر کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس کے اسرائیلی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ملک میں ایک نیا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔
مزید پڑھیں :وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر کی ملاقات















