اہم خبریں

ٹرمپ کو سب نے چھوڑنا شروع کر دیا،ایران کیخلاف جنگ میں حصہ نہیں لیں گے،8ممالک کا دو ٹوک اعلان

برلن ( اے بی این نیوز     ) جرمن چانسلر نے واضح کیا ہے کہ جرمنی ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی آبنائے ہرمز میں کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے سفارتکاری اور حکمت عملی کے ذریعے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔ جرمنی کی پالیسی واضح ہے کہ یورپی اتحادیوں اور نیٹو شراکت داروں کے درمیان مشترکہ فیصلہ ہونے تک کوئی فوجی مداخلت نہیں ہوگی۔ چانسلر نے زور دیا کہ ایران کے بحران کو مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا نہ ہو۔ برطانیہ نے بھی انکار کیا ہے.

ادھر امریکی صدر نے ایک بار پھر چین، جاپان اور دیگر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور کھلا رکھنے میں امریکا کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت کو بہت حد تک ختم کر دیا ہے اور ایران کی بحریہ کو تقریباً مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کی تیل کی تنصیبات کو فی الحال نشانہ نہیں بنا رہا، لیکن تمام آپشنز موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔

ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور جزیرہ خارگ میں موجود ایرانی فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ اس اہم گزرگاہ کے تحفظ میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ عالمی تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

جرمنی شامل نہیں ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات پر زور، یورپی اتحادیوں اور نیٹو سے مشترکہ فیصلہ کے بغیر مداخلت نہیں، مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی ترجیح
چین براہِ راست شامل نہیں امریکا کے ساتھ تعاون پر زور دیا، مگر براہِ راست جنگ میں نہیں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل اہم، علاقائی استحکام ضروری، اقتصادی مفادات محفوظ رکھنا
جاپان براہِ راست شامل نہیں امریکا کے ساتھ تعاون کی بات کی، لیکن فوجی کارروائی میں شامل نہیں توانائی اور تیل کی رسد کے تحفظ، طویل جنگ میں ملوث ہونے سے بچاؤ، عالمی تجارت پر اثر سے بچنا
روس موقف محدود براہِ راست جنگ میں شامل نہیں، تاہم سفارتی اور سیاسی حمایت جاری علاقائی توازن، عالمی طاقت کے طور پر اثرورسوخ قائم رکھنا، امریکا اور نیٹو کے اقدامات پر نگرانی
بھارت شامل نہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہیں توانائی کے معاشی مفادات، خطے میں امن کی ضرورت، ایران کے ساتھ تاریخی تجارتی تعلقات
سعودی عرب جزوی مداخلت امریکہ کے ساتھ اتحادی ہے، مگر براہِ راست ایران پر مکمل جنگ کی معلومات واضح نہیں علاقائی اثرورسوخ، ایران کے ساتھ تاریخی کشیدگی، دفاعی اور سکیورٹی ترجیحات
متحدہ عرب امارات محتاط علاقائی استحکام کے لیے اقدامات، لیکن براہِ راست جنگ میں محدود شمولیت داخلی سلامتی، اقتصادی مراکز کی حفاظت، امریکی اتحادی ہونے کے باوجود محتاط رویہ

متعلقہ خبریں