واشنگٹن ( اے بی این نیوز )امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے اشاروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے، جس نے توانائی مارکیٹ اور عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کیے ہیں۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے، عالمی سرمایہ کاروں اور تیل مارکیٹ میں مثبت ردعمل سامنے آیا۔ اس بیان کے چند ہی گھنٹوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی تجارتی رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمت تقریباً 8 فیصد تک گر گئی، جو حالیہ دنوں میں سب سے بڑی کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی پر فوری اثر ڈالتی ہے، اسی لیے جب جنگ یا تنازع کے خاتمے کی خبر سامنے آتی ہے تو مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے نیچے آتی ہیں۔
ایران خطے میں تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، اس لیے وہاں کشیدگی کم ہونے کی صورت میں عالمی سپلائی بہتر ہونے کی توقع پیدا ہوتی ہے۔ اسی امید نے عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کے خدشات کم کیے اور قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آیا۔ اگر خطے میں کشیدگی واقعی ختم ہونے کی طرف بڑھتی ہے تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھا جا سکتا ہے، جس کا اثر عالمی معیشت اور مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں :عیدالفطر کب ہو گی،تاریخ بارے جا نئے















