بیجنگ (اے بی این نیوز )چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ چین خطے میں مزید کشیدگی کے خلاف ہے اور تمام فریقین کو فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ چین ایران کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے جائز اور قانونی حقوق کے دفاع کو درست سمجھتا ہے۔ ماؤ نِنگ کے مطابق موجودہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے جس کے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
چینی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔دوسری جانب آذربائیجان نے ایران پر اپنے نخچیوان علاقے کے ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کا الزام لگایا ہے جس میں چند شہری زخمی ہوئے، تاہم تہران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے جہاں ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی جہاز گزرنے کی کوشش کرے گا تو اس پر فائر کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
چین خلیجی ممالک سے توانائی کا بڑا خریدار ہے اور موجودہ بحران میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اس نے طاقت کے غیر ضروری استعمال کے خلاف بھی خبردار کیا ہے۔
مزید پڑھیں :امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پسپا،میدا ن چھوڑ دیا،ایران کی فتح















