برسلز ( اے بی این نیوز ) نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں نیٹو بحیثیت اتحاد شامل نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نیٹو کے طور پر کسی براہِ راست عسکری شمولیت کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
برسلز میں جرمن ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا عالمی سلامتی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ جوہری ہتھیار سازی یا میزائل طاقت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ نیٹو اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اتحاد کے انفرادی رکن ممالک اپنی قومی پالیسی اور مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔ بعض ممالک امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں سہولت کاری کر رہے ہیں، لیکن یہ اقدامات انفرادی سطح پر ہیں، نہ کہ نیٹو کے اجتماعی فیصلے کے تحت۔
مزید پڑھیں :اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر پر حملے کے بعد نیتن یا ہو کی حالت غیر















