تہران (اے بی این نیوز )لبنان اور ایران سے جڑی حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر پر حملے کی خبر نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ انتہائی حساس مقام پر کیا گیا جس کے فوراً بعد عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، سکیورٹی الرٹ جاری ہوا اور ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کی حالت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا ذکر کیا جا رہا ہے، اور نیتن یاہو کی حا لت غیر ہے اور شدید پریشانی کی حالت میں ہے. یہ بات پاسداران انقلاب کی جانب سے بتائی گئی ہے کہ نیتن یاہو کی حالت غیر ہے .تاہم سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ حالیہ علاقائی تناؤ کے تسلسل میں کیا گیا، جس کا مقصد اعلیٰ سطحی حکومتی دفاتر کو نشانہ بنانا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے صورتحال کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں اور اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
عالمی برادری نے تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی بڑے تصادم کی شروعات ثابت ہوگا یا سفارتی کوششیں حالات کو سنبھال لیں گی۔
مزید پڑھیں :100ے لیکر 5000تک کے نئے کرنسی نوٹ؟10 روپے کا نیا نوٹ یا سکہ،جا نئے تفصیلات















