استنبول (اے بی این نیوز )ترکیہ کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعہ فروری 4، 2026 کو پیش آیا۔خبر ایجنسی کے مطابق کشتی یونانی کوسٹ گارڈز کے ایک جہاز سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی۔ حادثے کے وقت کشتی میں کم از کم 39 تارکین وطن سوار تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
حادثے کے فوراً بعد یونانی کوسٹ گارڈز نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ یونانی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 25 تارکین وطن کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں تاحال سمندر میں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔بچ جانے والوں میں ایک مراکشی شہری شامل ہے جبکہ دیگر افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر بحیرہ روم میں تارکین وطن کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ خطرناک سمندری راستوں کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں :نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے افسوسناک خبر،جا نئے تفصیلات















