سیؤل (اے بی این نیوز )جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق خاتون اول کم کیون ہی کو بدعنوانی کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے 20 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ سیؤل کی ضلعی عدالت کی جانب سے سنایا گیا، جس نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ کم کیون ہی نے کاروباری مراعات کے عوض یونیفکیشن چرچ سے رشوت وصول کی، جو ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رشوت ستانی کا عمل دانستہ طور پر کیا گیا، جس سے ریاستی نظام اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا۔ عدالتی فیصلے کو جنوبی کوریا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ سابق صدر یون سوک یول کے خلاف بغاوت کے الزام میں متوقع عدالتی فیصلے سے تقریباً تین ہفتے قبل سامنے آیا ہے، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں بھی خاصی گہماگہمی دیکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ آزاد پراسیکیوٹر نے کم کیون ہی کے خلاف رشوت ستانی، حصص کی قیمتوں میں ہیر پھیر اور سیاسی فنڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات کے تحت 15 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم عدالت نے شواہد ناکافی ہونے کی بنیاد پر انہیں حصص کی قیمتوں میں ہیر پھیر اور سیاسی فنڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات سے بری کر دیا۔
یاد رہے کہ سابق صدر یون سوک یول کو ایک سال قبل مارشل لاء نافذ کرنے کے باعث صدارت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل آزاد پراسیکیوٹر ان کے لیے سزائے موت کی استدعا بھی کر چکا تھا۔
مزید پڑھیں :بسنت تیاریاں عروج پر ، آن لائن پرمٹ سسٹم کے غیر فعال،خوشی ماند پڑنے کا خدشہ















