اہم خبریں

شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائل داغ دیئے

پیانگ یانگ (اے بی این نیوز) شمالی کوریا نے منگل کے روز کم از کم 2 بیلسٹک میزائل بحیرۂ جاپان کی سمت داغ دیئے۔

جاپان اور جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق یہ لانچ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل امریکا کے اعلیٰ سطحی عہدیدار نے جنوبی کوریا کو واشنگٹن کا ’’مثالی اتحادی‘‘ قرار دیا تھا۔

’’اے ایف پی‘‘ کے مطابق پیانگ یانگ نے حالیہ برسوں میں میزائل تجربات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان تجربات کا مقصد میزائلوں کی درست نشانہ بازی کی صلاحیت بہتر بنانا، امریکا اور جنوبی کوریا کو چیلنج کرنا، اور ہتھیاروں کو برآمد کرنے سے قبل آزمانا ہے، جن میں روس جیسے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں۔

جاپانی کوسٹ گارڈ نے وزارتِ دفاع کے حوالے سے بتایا کہ دو بیلسٹک میزائل بحیرۂ جاپان کی جانب فائر کیے گئے۔ جاپانی خبر رساں ادارے جیجی پریس کے مطابق یہ میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا نے کئی بیلسٹک میزائل داغے، جن کی سمت اس سمندر کی طرف تھی جسے سیول ’’مشرقی سمندر‘‘ کہتا ہے۔

یہ رواں ماہ شمالی کوریا کا دوسرا میزائل تجربہ ہے۔ اس سے قبل بھی میزائل اس وقت داغے گئے تھے جب جنوبی کوریا کے صدر چین کے دورے پر جانے والے تھے۔ موجودہ لانچ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایک دن پہلے پینٹاگون کے سینئر عہدیدار ایلبرج کولبی نے سیئول کا دورہ کیا اور جنوبی کوریا کو امریکا کا ’’ماڈل اتحادی‘‘ کہا۔

امریکا اور جنوبی کوریا کے تعلقات کی بنیاد کوریائی جنگ کے خونریز واقعات میں رکھی گئی تھی۔ آج بھی امریکا ،شمالی کوریا کے ایٹمی خطرے کے پیش نظر جنوبی کوریا میں 28 ہزار 500 فوجی تعینات کیے ہوئے ہے۔

شمالی کوریا باقاعدگی سے امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے گزشتہ ماہ سیئول اور واشنگٹن کی جانب سے جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی تیاری کے منصوبے کو’’خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا ’’توڑ ‘‘کیا جانا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں۔ایران کا آبنائے ہرمز میں مشقیں شروع کرنے کا اعلان، فضائی ناکا بندی بھی کر دی

متعلقہ خبریں