ا
تہران ( اے بی این نیوز)ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور ایران کو کسی بڑے فوجی اقدام کا اندیشہ لاحق ہے۔
اپوزیشن سے منسلک ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی فوجی اور سکیورٹی اداروں نے امریکی حملے کے خطرے میں اضافے کا تخمینہ لگایا، جس کے بعد اعلیٰ سطحی سکیورٹی پلان کے تحت خامنہ ای کو ایک محفوظ اور مضبوط زیرِ زمین تنصیب میں منتقل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقام قلعہ نما ڈھانچے پر مشتمل ہے جہاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی سرنگیں موجود ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں نقل و حرکت ممکن رہے۔
اسی دوران ایرانی قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپریم لیڈر پر کوئی حملہ ہوا تو جہاد کا فتویٰ جاری کیا جائے گا۔ اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی نگرانی سنبھال لی ہے تاکہ انتظامی معاملات بغیر تعطل کے چلتے رہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران ممکنہ خطرات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں :شدید سردی کی لہر ، سکولوں کا نیا ٹائم شیڈول آگیا، جا نئے کیا















