دمشق ( اے بی این نیوز )شام کے معزول صدر بشار الاسد کے چچا اور سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی رفعت الاسد 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کا انتقال متحدہ عرب امارات میں ہوا، جہاں وہ گزشتہ کچھ عرصے سے مقیم تھے۔ ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست سے وابستہ حلقوں میں ایک بار پھر شام کی خونریز تاریخ پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
رفعت الاسد پیشے کے اعتبار سے ایک سابق فوجی افسر تھے۔ انہوں نے 1970 میں اپنے بھائی حافظ الاسد کے ساتھ مل کر فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وہ اسد حکومت میں ایک طاقتور شخصیت بن کر ابھرے اور انہیں ایلیٹ فورسز کی کمان سونپی گئی، جو براہ راست ان کے زیرِ اثر تھیں۔
2000 میں حافظ الاسد کی وفات کے بعد رفعت الاسد نے اقتدار اپنے بھتیجے بشار الاسد کو منتقل کیے جانے کی مخالفت کی اور خود کو شام کا جائز جانشین قرار دیا۔ تاہم یہ چیلنج عملی طور پر کامیاب نہ ہو سکا اور وہ سیاسی طور پر تنہا ہو گئے۔ اس کے بعد وہ کئی برس تک جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور یورپ و مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں مقیم رہے۔
مزید پڑھیں :ایک ساتھ 4 چھٹیاں؟















