اہم خبریں

ایران کی ٹرمپ کو احتجاجی تحریک کا ذمہ دار ٹھہرا کر سزا دینے کی دھمکی، اسرائیل نے جنگ کی تیاری کا اعلان کر دیا

ایران(اے بی این نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف ایران نے جاری عوامی احتجاج کے پس منظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت سزا دینے کی دھمکی دی ہے، تو دوسری جانب اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو وہ غیر معمولی نوعیت کی فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ کسی بھی اچانک جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے جواب میں ایسی جارحانہ صلاحیت بروئے کار لائی جا سکتی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ فوجی حکام کے مطابق ممکنہ سرپرائز جنگ کے خدشے کے پیش نظر تمام دفاعی اور حملہ آور نظام تیار حالت میں رکھے گئے ہیں۔

دوسری طرف ایران میں انٹرنیٹ بندش بارہویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی انتہائی محدود ہے، جبکہ حکام ایک سخت فلٹر شدہ مقامی انٹرانیٹ نظام آزما رہے ہیں، جس کے ذریعے کبھی کبھار پیغامات کی ترسیل ممکن ہو رہی ہے۔ اس بندش کے باعث احتجاجی مظاہروں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی درست معلومات سامنے آنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق مظاہرین کو بسیج کے اڈوں اور پولیس مراکز کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

یورپی ممالک کے قانون سازوں نے ایران میں سزائے موت کے واقعات پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی سینیٹرز نے ایرانی قیادت کے خلاف مزید سخت اقدامات کی اپیل کی ہے۔

ادھر ایران نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا ہے، جبکہ ریاستی ٹی وی کے سیٹلائٹ چینلز پر سائبر حملوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بیرونِ ملک ایرانی تارکینِ وطن کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیں۔ملک کے مختلف علاقوں میں بارش ہونے کی پیشگوئی

متعلقہ خبریں