نیویارک (اے بی این نیوز )بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ستاروں کی کھوج کے لیے بھیجا گیا مشن وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا، وجہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ انسانی جان کی حفاظت بنی۔ بحرالکاہل کی خاموش تاریکی میں، اسپیس ایکس کا ڈریگن اینڈیور خلائی کیپسول پیراشوٹ کے سہارے زمین پر واپس لوٹ آیا۔ امریکی شہر سان ڈیاگو کے قریب یہ کیپسول مقامی وقت کے مطابق رات 3 بج کر 41 منٹ پر سمندر میں اترا۔ یہ واقعہ خلا سے ہونے والا اب تک کا ایک غیر معمولی ہنگامی طبی انخلاء قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کئی ماہ پر مشتمل مشن کو مختصر کرنا پڑا۔
کیپسول میں دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے چار خلا باز سوار تھے۔ ناسا کی زینا کارڈمین اور مائیک فنکے، جاپان کے کیمیا یوئی اور روس کے خلا باز اولیگ پلیٹونوف۔ ان تمام خلا بازوں کو اس وقت زمین پر واپس لایا گیا جب عملے کے ایک رکن کو سنگین طبی مسئلہ لاحق ہو گیا۔ناسا کے مطابق ڈریگن کیپسول نے زمین پر واپسی سے صرف 10.5 گھنٹے قبل خلائی اسٹیشن سے علیحدگی اختیار کی اور غیر معمولی رفتار سے واپسی کا سفر شروع کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد ایک ہی اصول تھا، یعنی عملے کی حفاظت۔
یہ مشن یکم اگست کو کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا۔ کریو 11، ایکسپیڈیشن 73 کا اہم حصہ تھا اور منصوبے کے مطابق اسے فروری کے آخر تک خلائی اسٹیشن پر قیام کرنا تھا تاکہ اگلے مشن کو ہموار منتقلی دی جا سکے۔ مگر خلا کی تاریخ بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ یہ سفر صرف سائنسی خوابوں کا نہیں بلکہ انسانی کمزوریوں کا بھی ہے۔
مزید پڑھیں :آئندہ موسم کیسا رہے گا،کہاں بارش اور برفباری ہو گی،جانئے















