بھوپال (اے بی این نیوز)بدنام اور خطرناک جرائم پیشہ رحمان ڈکیت بالآخر پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ پولیس نے ہتھکڑیاں لگا کر حوالات میں پہنچا دیا۔
دو دہائیوں تک عابد علی عرف راجو عرف ’رحمان ڈکیٹ‘، جو انڈین شہر بھوپال کے بدنامِ زمانہ ایرانی ڈیرہ سے سرگرم ایک کثیر ریاستی جرائم پیشہ نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ ہے، کا نام پولیس فائلوں میں سرگوشیوں کی صورت موجود رہا اور ریاستی سرحدوں کے پار خوف کی علامت بنا رہا۔
تاہم این ڈی ٹی وی کے مطابق دو روز قبل جمعے کو اس کی طویل مجرمانہ سرگرمیوں کا خاتمہ اس وقت ہوا جب سورت کرائم برانچ نے لال گیٹ علاقے میں ایک خفیہ کارروائی کے دوران بغیر ایک بھی گولی چلائے اسے خاموشی سے گرفتار کر لیا۔
یہ گرفتاری انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد عمل میں آئی، جن کے مطابق گینگسٹر بھوپال کی امن کالونی میں واقع اپنے ٹھکانے پر پولیس کے ایک ہائی رسک چھاپے کے بعد فرار ہو کر سورت میں پناہ لیے ہوئے تھا اور مبینہ طور پر کسی بڑے جرم کی تیاری کر رہا تھا۔ اس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کرائم برانچ نے جال بچھایا اور اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق راجو ایرانی کم از کم 14 ریاستوں میں سرگرم مختلف گینگز کا نیٹ ورک چلاتا تھا، جو ڈکیتی، دھوکہ دہی، بھتہ خوری، جعل سازی، آتش زنی اور اقدامِ قتل جیسے جرائم میں ملوث تھا۔
اس پر مہاراشٹر میں سخت قانون ایم سی او سی اے کے تحت بھی مقدمات درج ہیں۔ وہ اکثر فرضی سی بی آئی افسر، خاکی وردی میں پولیس اہلکار یا حتیٰ کہ سادھو کا بھیس بدل کر مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھاتا تھا۔پولیس کے مطابق بھیس بدل کر جرائم انجام دینا اس گینگ کی سب سے خطرناک خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔
سرکاری اہلکاروں یا مذہبی شخصیات کا روپ دھار کر یہ گروہ خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بزرگوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گینگ کا طریقہ واردات فلم ’سپیشل 26‘ کی کہانی سے خاصی مماثلت رکھتا ہے۔ گینگ کے ارکان سیلز ٹیکس افسران، کسٹمز اہلکاروں، سی بی آئی یا پولیس اہلکاروں کا بھیس بدل کر جعلی چھاپے اور فراڈ کی کارروائیاں انجام دیتے تھے۔
ہر جرم منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا، راستے اور فرار کے طریقے طے ہوتے اور گرفتاری کے باوجود ملزمان اپنے ساتھیوں یا نیٹ ورک کی ساخت سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کرتے تھے۔
مزید پڑھیں: معاہدہ کرلو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے’ ٹرمپ نے کیوبا کو بھی وارننگ دے دی















