اہم خبریں

حا لات کشیدہ،امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے،ایران پر حملے کا منصوبہ؟نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

واشنگٹن،تہران (  اے بی این نیوز      ) ایران میں احتجاجات اور خطے کی کشیدگی نے عالمی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کو فون کر کے ایران میں مظاہروں، غزہ اور شام کی صورتحال پر بات کی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ وہ ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا ایرانی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ ایرانی حکومت خطے اور عالمی سطح پر مسائل کا باعث ہے۔

دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ میں ایک بے گناہ امریکی خاتون کے قتل پر سوال اٹھایا، جو تین بچوں کی ماں تھی اور امریکی امیگریشن ایجنٹ نے اسے گولی مار دی۔ عراقچی نے کہا کہ سابق امریکی وزیر خارجہ نے مظاہرین کو موساد کے ایجنٹ قرار دیا، اور ایران میں پولیس اہلکار حقیقی دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق غیر فوجی اہداف پر حملے بھی منصوبے میں شامل ہیں، لیکن صدر نے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو ایران پر سخت کارروائی کی جائے گی، اور ایران میں آزادی کی کوششوں کی حمایت کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ احتجاج اور ہنگامہ آرائی میں فرق ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہر سے دہشتگردوں کو ملک میں داخل کیا گیا جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو فسادیوں اور دہشتگردوں کے ساتھ شامل نہ ہونے دیں اور معاشرتی امن و امان خراب نہ ہونے دیں۔اسی دوران ایرانی صدر نے معاشی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی، سبسڈی نظام میں تبدیلیاں کر کے پیداوار بڑھانے اور عوام کی قوت خرید بہتر بنانے کا منصوبہ جاری رکھا ہے۔

مزید پڑھیں :مزار قائد پر پی ٹی آئی کا جلسہ،سہیل آفریدی کا خطاب،جا نئے کیا پیغام دیا

متعلقہ خبریں