یو اے ای(اے بی این نیوز)سال 2030 میں یو اے ای سمیت دنیا بھر کے مسلمان کو دو مرتبہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نصیب ہوگا، ماہرینِ فلکیات اور اسلامی اسکالرز کے مطابق اس کی وجہ اسلامی (قمری) کیلنڈر اور عیسوی (گریگورین) کیلنڈر کے درمیان فرق ہے۔ اسلامی کیلنڈر چاند کی گردش پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ گریگورین کیلنڈر سورج کے گرد زمین کی گردش کے مطابق ترتیب پاتا ہے، اسلامی سال 354 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو عیسوی سال سے تقریباً 11 دن کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے رمضان ہر سال تقریباً 10 سے 11 دن پہلے آ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2030 میں رمضان المبارک پہلی مرتبہ اسلامی سال(1451 ہجری) 5 جنوری 2030 کو شروع ہوگا، اس کے بعد دوسری بار روزوں کا مہینہ اسلامی سال( 1452 ہجری) 26 دسمبر 2030 کو شروع ہوگا۔ یوں مسلمان ایک ہی سال میں دو مرتبہ روزے رکھیں گے، جنوری میں 30 روزے ہوں گے جبکہ دسمبر کے آخر میں مزید 6 روزے رکھے جائیں گے، جس سے مجموعی طور پر 36 روزے ایک ہی سال میں ہوں گے۔ یہ نایاب موقع تقریباً ہر 33 سال بعد آتا ہے، کیونکہ قمری اور شمسی کیلنڈر کے فرق کی وجہ سے اسلامی مہینے آہستہ آہستہ تمام موسموں سے گزرتے ہیں۔
اس سے قبل یہ ہی موقع 1997 میں بھی آیا تھا اب 2030 میں آئیگا اور اُس کے بعد 2063 میں ہوگا۔ رمضان المبارک میں فجر سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھنا مسلمانوں پر فرض ہے، جو عبادت، صبر اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم روزے کا دورانیہ موسم کے حساب سے مختلف ہوتا ہے، سردیوں میں روزے نسبتاً کم دورانیے کے ہوتے ہیں، جبکہ گرمیوں میں بعض ممالک میں روزے کا وقت 17 گھنٹے سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ فلکیاتی حساب سے رمضان کے آغاز کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، لیکن زیادہ تر اسلامی ممالک میں رمضان کا باقاعدہ آغاز چاند دیکھنے کے بعد ہی کیا جاتا ہے، سعودی عرب سمیت کئی ممالک انسانی رویتِ ہلال پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ بعض ممالک سائنسی طریقوں کو بھی اختیار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 میں آنے والا یہ منفرد موقع مسلمانوں کے لیے ایک یادگار روحانی تجربہ ہوگا، جو عبادت اور صبر کا دوہرا موقع فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمتوں میں تیزی، عالمی نرخ بڑھ گئے















