شام(اے بی این نیوز)شام کے شہر حلب میں شامی فوج اور کرد قیادت میں شامل شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث سیکیورٹی صورتحال بگڑ گئی، جس کے بعد حکام نے شہر کے کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
شامی حکام کے مطابق حلب کے علاقوں الاشرفیہ، شیخ مقصود، بنی زید، السریان، الحلک اور المیدان میں جمعرات کے روز کرفیو نافذ کیا گیا، جو تاحکمِ ثانی برقرار رہے گا۔ حلب انٹرنل سیکیورٹی کمانڈ نے بتایا کہ یہ اقدام شہریوں کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور جان و مال کو لاحق خطرات سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ کرفیو کے دوران ان علاقوں میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔
عہدیداروں کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں الاشرفیہ اور شیخ مقصود سے ایک لاکھ سے زائد شہری اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کئی رہائشیوں نے بتایا کہ سنائپر فائرنگ اور گولہ باری کے باعث لوگ نقل مکانی تو کرنا چاہتے ہیں، مگر راستوں میں جان کے خطرے کے باعث خوف زدہ ہیں۔
اس ہفتے حلب میں جاری لڑائی کے دوران کم از کم 22 افراد ہلاک اور 173 زخمی ہو چکے ہیں۔ شامی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ڈی ایف نے شہری علاقوں کو توپ خانے اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، تاہم کرد قیادت میں شامل فورسز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانی نقصان حکومت نواز دھڑوں کی اندھا دھند گولہ باری کا نتیجہ ہے۔
شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایس ڈی ایف سے وابستہ مسلح گروہوں کے انخلا کے بعد حکومتی فورسز نے الاشرفیہ کے بعض علاقوں میں تعیناتی شروع کر دی ہے، تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی بدامنی کو روکا جا سکے۔
ادھر حلب کے ایک اسپتال سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شدید گولہ باری کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں اور طبی عملہ زخمیوں کے علاج میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی برطرفی کے بعد حلب میں یہ اب تک کی شدید ترین لڑائی ہے۔
دوسری جانب ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے کہا ہے کہ حلب میں ٹینکوں اور توپ خانے کی تعیناتی اور شہری آبادی کی بے دخلی نے دمشق حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرد فورسز کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل محض طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے جامع سیاسی فریم ورک اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں۔لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کل ہوں گے، 27 امیدوار مدمقابل















