اہم خبریں

امریکی صدر کے بیان کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی

واشنگٹن(اے بی این نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کے تیل پر اختیار حاصل کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی آئی۔ جس کے بعد خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

نیویارک کی عدالت میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور مقدمے کا سامنا کرنے کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا اب امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرے گا۔ اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں وینزویلا کے تیل کی صنعت میں شامل ہو کر عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔ اور تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکی صدر کے کنٹرول میں رہے گی۔ تاکہ اسے دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ تیل براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک منتقل کیا جائے گا۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں نمایاں کمی سامنے آئی۔ خام تیل کی قیمت میں 1.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے ذخیرہ شدہ تیل کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ اور اگر یہ تیل عالمی منڈی میں آجاتا ہے تو قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ مگر بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے اس کے تیل کی پیداوار 25 سال قبل 35 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔ جو عالمی پیداوار کا صرف ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

توانائی کنسلٹنسی کمپنی رسٹاڈ انرجی کے مطابق وینزویلا کی تیل کی صنعت کو ماضی کی سطح پر لانے کے لیے کم از کم 15 سال اور تقریباً 185 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔

مزید پڑھیں۔اپوزیشن رہنما فائرنگ سے جاں بحق

متعلقہ خبریں