ریا ض اے بی این نیوز )سعودی عرب میں کرایہ داروں اور مالکان کے حقوق کو مزید منظم بنانے کے لیے کرایہ داری سے متعلق نیا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ ریئل اسٹیٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ان نئے ضوابط پر تمام مالکانِ مکان کے لیے عمل کرنا لازم ہوگا۔سعودی اخبار 24 کے مطابق جنرل اتھارٹی فار ریئل اسٹیٹ نے رہائشی کرایہ داری کے معاہدوں سے متعلق واضح اور سخت قواعد لاگو کر دیے ہیں۔ نئے قانون کے تحت اگر کوئی مالک مکان کرایہ دار سے مکان خالی کروانا چاہتا ہے تو اسے کم از کم ایک سال قبل تحریری نوٹس دینا ہوگا، تاکہ کرایہ دار کو متبادل رہائش کا مناسب بندوبست کرنے کے لیے کافی وقت مل سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ خاص طور پر رہائشی شعبے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں کرایوں میں تیزی سے اضافے کی شکایات سامنے آ رہی تھیں، بالخصوص دارالحکومت ریاض میں کرایوں کا دباؤ نمایاں تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پراپرٹی سیکٹر کو بہتر بنانے اور کرایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شاہی ہدایات کی روشنی میں خصوصی ضوابط متعارف کرائے گئے تھے۔ ان ضوابط کے تحت مکان مالکان کو پانچ برس تک کرایوں میں اضافہ نہ کرنے اور بلاجواز کرایہ دار کو مکان خالی نہ کرانے کا پابند بنایا گیا تھا۔
اتھارٹی کی جانب سے مکان خالی کرانے کے لیے بھی مخصوص شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق مالک مکان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ذاتی استعمال کے لیے مکان واپس لینا چاہتا ہے یا یہ مکان اس کے قریبی خونی رشتہ دار، یعنی درجہ اول کے اہل خانہ، کی ضرورت کے لیے درکار ہے۔
مزید پڑھیں :’’نک دا کوکا‘‘ گانا مہنگا پڑ گیا















