جکارتا (اے بی این نیوز)انڈیونیشیا میں مظاہرے پھوٹ پڑے،پارلیمنٹ کی عمارت نذرآتش ،رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو 3 ستمبر کو جنگ عظیم دوم کے اختتام کے 80 ویں سال کے موقع پر چین کے یوم فتح کی پریڈ میں شرکت کرنا تھی۔
صدارتی ترجمان پراسیتیو ہادی نے بیان میں کہا کہ صدر چاہتے ہیں کہ وہ خود براہ راست صورت حال کا جائزہ لیں۔ انہوں نے چینی حکومت سے معذرت کرلی ہے کہ وہ دعوت پر شرکت نہیں کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر کا دورہ چین منسوخ ہونے کی دوسری وجہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہے۔ صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے تاہم دارالحکومت جکارتہ میں احتجاج رواں ہفتے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں کے معاملے پر شروع ہوا تھا اور جب پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوا تو اس میں مزید شدت آگئی۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے جنوبی نوسا ٹینگارا، وسطی جاوا کے شہر پیکالونگن اور مغربی جاوا کے شہر سیریبون میں پارلیمنٹ کی عمارتوں کا آگ لگا دی۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ مظاہرین نے سیریبون میں پارلیمنٹ کی عمارتوں سے اشیا بھی لوٹ لیں۔
پولیس نے پیکالونگن اور جنوبی نوسا ٹینگارا میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کیا۔ انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ جنوبی سولیواسی صوبے کے دارالحکومت ماکاسر میں جمعے کو پارلیمنٹ کی عمارت نذر آتش کی گئی اور اس دوران 3 افراد جاں بحق ہوئے۔
سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ جاں بحق افراد نذرآتش ہونے والی عمارت میں پھنس گئے تھے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ دو افراد عمارت میں لگی آگ سے بچنے کیلئے کود گئے اور وہ زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ ماکاسر پارلیمنٹ کی عمارت میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک اور شہری جاں بحق ہوگئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
مزید پڑھیں: پاک فوج نے آزاد جموں و کشمیر میں بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا