33ملین سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے امداد کی ضرورت ہے، مدد کرنیوالوں کو نہیں بھولیں گے ، شہباز شریف

جنیوا(نیوز ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، سیلاب سے نہ صرف انفراسٹرکچر تباہ ہوا بلکہ ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی، لاکھوں گھر سیلاب میں بہہ گئے، تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے اور زراعت ختم ہو گئی، مشکل وقت میں مدد کرنے والے ممالک کو پاکستان نہیں بھولے گا، سیلاب متاثرین کی تعمیر نو اور بحالی کے لئے بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں سیلاب متاثر علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے حوالے سے’’ کلائمیٹ ریزیلیئنٹ پاکستان‘‘ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کانفرنس کی میزبانی اور اس سے خطاب کرنا میرے لئے اعزاز ہے، مجھے خوشی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری انتونیو گوتریس میرے ساتھ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں جس طرح سیلاب کے بعد انہوں نے پاکستان کے عوام کے احساسات کی ترجمانی کی اور مشکلات کو اجاگر کیا، اس پر پاکستان کے عوام کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سیلاب کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سندھ اور بلوچستان سمیت سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کا خود جائزہ لیا، پاکستان کے سیلاب متاثرہ عوام مشکل وقت میں ان کے کردار اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 33 ملین لوگ شدید متاثر ہوئے جبکہ بچوں سمیت 1700 افراد سیلاب میں جاں بحق ہوئے، سیلابی ریلوں میں کئی لاکھ گھر اور ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں، 10لاکھ بچیوں سمیت 26 لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا، مشکل ترین وقت میں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور یورپی ممالک سمیت دنیا کے بہت سے ممالک نے ہماری مدد کی، میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ابھی تک سیلاب سے ہونے والی تباہی سے باہر نہیں نکلا اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا کام جاری ہے، بلوچستان اور سندھ کے کئی علاقوں میں سیلاب کا پانی ابھی بھی کھڑا ہے، اسے نکالنا باقی ہے، انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیر نو کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ پانی کھڑا ہونے سے زراعت بھی شدید متاثر ہوئی ہیں اور فصلیں کاشت نہیں ہو سکتیں، ہمیں متاثرہ خاندانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے اور اپنا روزگار کمانے کے قابل بنانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے، 90 لاکھ لوگ غربت کی دلدل میں دھنس گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے، 20 ہزار ٹروپس، سینکڑوں ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، 2.7 ملین خاندانوں کو 400 ملین ڈالر کی کیش گرانٹ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ کانفرنس کے تمام شرکاء کے شکریہ ادا کرتے ہیں، انہوں نے پاکستانی عوام کا دکھ، درد محسوس کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، پاکستان کو سیلاب سے ہونے والی تباہی کے باعث بہت مشکل چیلنجز درپیش پیش ہیں، سیلاب متاثرین کی زندگیاں بدل گئی ہیں، حکومت نے ان کی ریکوری، بحالی اور تعمیر نو کے لئے جامع منصوبہ تشکیل دیا ہے، ہمیں اس سلسلے میں عالمی برادری کی مدد درکار ہے، سیلاب سے ہونے والی تباہی کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، پاکستان تنہا اس تباہی سے ہونے والے اثرات سے نہیں نمٹ سکتا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس مشکل صورتحال میں عالمی برادری پاکستان کی بھرپور مدد کرے گی۔