اہم خبریں

گزشتہ 30 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں، جلدانتخابات متوقع، شہبازشریف

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف نے صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں، مجھے اس بات پرفخر ہے کہ میرے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ اچھے تعلقات رہے، ،یہ مانتے ہیں ہمارا ووٹ بینک متاثر ہوا،میں سمجھتا ہوں کہ ریاست بچ گیاتوسب کچھ بچ گیا،16ماہ مشکل حالات میں حکومت چلائی ،16 ماہ میں ایک روپے کا اسیکنڈل ہمارے خلاف نہیں آیا،آئندہ انتخابات ” ووٹ کوعزت دو” کے نعرے پرلڑیں گے،س دورمیں میرے اسٹبلشمنٹ کےساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے،لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اور کس موقع پر رعایت دی گئی،16 ماہ کی حکومت میں 8 ماہ احتجاج اورمارچ کی نظرہوئے ،مسلم لیگ ن کا متفقہ فیصلہ ہےکہ اگراکثریت ملی تووزیراعظم نوازشریف ہونگے،نوازشریف کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں،الیکشن ایکٹ کی ترمیم سےنوازشریف کی نااہلی ختم ہوچکی ہے،منصوبوں کی افتتاح تقریب میں آرمی چیف کی تعریف کی صحافیوں کا،سوال ،آرمی چیف کی تعریف کرنے میں حرج کیا ہے ؟شہبازشریف کا جواب،نگراں وزیراعظم کا فیصلہ ایک دوروز میں ہوجائےگا،آج بھی ملاقات شیڈول ہے،جماعت کی حیثیتسے اانتخابات جلد از جلد ہوں ،پاور سیکٹر میں میجر سرجری کی ضرورت ہے ، نوازشریف کا اس سے بڑا کیا کارنامہ ہوگا کہ اپنے دو میں 20 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کی گزشتہ حکومت نے ملکی مفادات کو ملحفوظ خاطر نہیں رکھا 3ستمبر 2014 رات 12 مجھے چینی سفیر کا فون آیاچینی سفیر نے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونے کا بتایاآگلے روز اس وقت کے آرمی چیف سے ملاقات کی ملاقات میں آرمی چیف سے چینی صدر کا دورہ یقینی بنانے کا کہا تاہم تحریک انصاف دھرنا ختم کرنے سے انکارکیا16 ماہ کی حکومت کے سیاسی راز کبھی افشاں نہیں کرونگااگرہم کسٹم ڈیوٹی کی مد میں کنٹرول کرلیں تو نیا ٹکس نہ لگانا پڑے ہم نے اشرافیہ پر سپر ٹیکس لگایا تو اسٹے آرڈ آگیا اسوقت عدلیہ میں 60 ہزار کیسز التواء کا شکار ہیں جس کے باعث 26 ہزار ارب روپیہ کی وصول ہےتمام اتحادیوں نے نگراں وزیراعظم اختیار دیا صرف ایک جماعت نے کہا کہ ہماری لیڈرشپ سے بات کرلیں۔

متعلقہ خبریں