کراچی ( اے بی این نیوز )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 3 فیصد بڑھانےکااعلان کردیا جس کے بعد ملک میں شرح سود 20 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔اکتوبر 1996 کے بعد ملک میں شرح سود کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ جنوری 2022 سے اب تک مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود میں 1050 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرچکا ہے۔ مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 27 سے 29 فیصد رہے گی، نومبر پالیسی اجلاس میں مہنگائی کی شرح 21 سے 23 فیصد رہنےکی توقعات تھیں،مہنگائی کی توقعات گھٹانے کیلئے شرح سود میں بڑا اضافہ ضروری تھا۔ اقتصادی پالیسیوں، بیرونی حالات نے قلیل مدتی مہنگائی کا منظر نامہ بگاڑا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو تہائی کم کرکے بھی بے یقینی کی صورتحال برقرارہے،آئی ایم ایف پروگرام کے نویں جائزے سے قلیل مدت میں تشویش کم ہوگی، حکومت نے جی ایس ٹی، ایکسائز ڈیوٹیز اور توانائیکی قیمتیں بڑھائیں اور سبسڈیز کم کی ہیں۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلااجلاس 4 اپریل 2023 کو ہوگا۔















