کراچی ( اے بی این نیوز) نوجوان تاجر میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان کے والد کے وکیل جبران ناصر کا ردِعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ نے میر رضا کے اہل خانہ کے مؤقف کی تائید کی ہے۔
اپنے بیان میں جبران ناصر نے کہا کہ اہل خانہ کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں، جبکہ کمیشن نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی سفارش کی ہے، جو اہل خانہ کا بھی مطالبہ تھا۔
ان کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیس میں بڑی تعداد میں شواہد ضائع ہوئے۔ کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ مقدمے کی تفتیش کے ابتدائی 10 روز کے دوران تعینات رہنے والے تفتیشی افسران کے خلاف انکوائری کی جائے۔
جبران ناصر نے کہا کہ انکوائری کے دائرے میں ابتدائی 10 روز کے دوران تعینات افسران کے ساتھ ڈاکٹر اسامہ بھی شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ نے اہل خانہ کے مؤقف کی تائید کی ہے۔
وکیل کے مطابق انہیں ابھی تک کمیشن کی مکمل رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن نے اس کیس میں عوام اور اہل خانہ کا پولیس پر اعتماد ختم ہونے کی نشاندہی بھی کی ہے۔
مزید پڑھیں:برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان















