گوجرانوالہ (اے بی این نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی، کیونکہ آئے روز دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور لانگ مارچ کیے جا رہے تھے۔
گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبے کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے اور خیبر پختونخوا کی ترقی و خوش حالی کے لیے حکومت تعاون کرنے کو تیار ہے۔
“خیبر پختونخوا میں اس وقت ایمرجنسی مجبوری میں لگائی گئی ہے۔ پہلے وزیراعلیٰ تھے، ان کے ساتھ بھی میری ایک سے زیادہ نشستیں ہوئیں، اور ایمرجنسی لگنے کے پہلے جو وزیراعلیٰ تھے ان کے ساتھ بھی میری ایک سے زیادہ میٹنگز ہوئیں اور ہر بار یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یہ خطہ پاکستان کا ایک خوبصورت حصہ ہے، جہاں عوام کو مسائل اور سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔ خاص طور پر افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، جو بدقسمتی سے 2018 میں دوبارہ شروع ہوا۔ اس کے خاتمے کے لیے ہم مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے اور اپنی حکومت کی جانب سے تمام ضروری وسائل اور بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔
تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کی حفاظت کرنے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہر روز اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، مگر اس کے باوجود آئے روز دھرنے اور لانگ مارچ ہوتے رہے۔ پچھلے سال کا لانگ مارچ آپ کو ابھی تک یاد ہوگا۔ ان کی ماضی کی تاریخ بہت بھیانک ہے۔”
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی گوجرانوالہ میں گفتگو
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 17, 2026
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ بھیانک رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ سے دہشت گردی کے خلاف مل کر چلنے کی بات کی تھی، تاہم اس بار ان کے بقول خون ریزی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ خلیجی جنگ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر کوششیں کیں۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ کا بڑا فیصلہ، خیبر پختونخوا کے لیے اہم منظوری دے دی گئی















