راولپنڈی (اے بی این نیوز) راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ پانچ سال گزرنے کے باوجود مکمل طور پر فعال نہ ہوسکا، جبکہ منصوبے کی لاگت 22 ارب 82 کروڑ روپے سے بڑھ کر 53 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ منصوبے کی لاگت میں تقریباً 30 ارب روپے کے اضافے اور مسلسل تاخیر پر اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رنگ روڈ منصوبے کی تکمیل کے لیے متعدد ڈیڈ لائنز مقرر کی گئیں اور افتتاح کے بار بار اعلانات بھی سامنے آئے، تاہم منصوبہ تاحال مکمل طور پر عوام کے لیے فعال نہیں ہوسکا۔ ڈیزائن میں تبدیلیوں، این او سیز کے حصول اور فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کو منصوبے کی راہ میں اہم رکاوٹیں قرار دیا جارہا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے لیے زمین کے حصول کی مد میں 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد کا پی سی ون منظور کیا گیا، جبکہ زمین مالکان کو 2 ارب 43 کروڑ 56 لاکھ روپے کی ادائیگی کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں تعمیراتی ٹینڈرز، زمین کے حصول، روٹ، مالیاتی ماڈل اور تفصیلی ڈیزائن کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2021 کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 38 سے 40 ارب روپے مالیت کے تعمیراتی ٹینڈرز طلب کیے گئے، تاہم حکومت نے 27 اپریل 2021 کو یہ ٹینڈرز منسوخ کردیے۔ منصوبے کے روٹ میں مبینہ تبدیلیوں اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوریوں سے متعلق معاملات بھی زیرِ جائزہ رہے، جبکہ منصوبے کے لیے مزید 7 ارب روپے کی فراہمی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب ٹھلیاں انٹرچینج اور موٹروے ایم ٹو سے رابطے کا معاملہ بھی منصوبے کی تکمیل میں اہمیت رکھتا ہے۔ ٹول پلازوں اور ویئنگ اسٹیشنز کے سول ورکس سمیت آپریشنز کے لیے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی بروقت خریداری بھی مکمل نہیں ہوسکی۔
کمشنر راولپنڈی سلیمان غنی نے گزشتہ روز منصوبے کا دورہ کیا، جس میں ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر، پراجیکٹ ڈائریکٹر ایف ڈبلیو او اور دیگر متعلقہ افسران، انجینئرز اور کنٹریکٹرز نے شرکت کی۔
رنگ روڈ منصوبے کی تکمیل سے راولپنڈی میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملنے کی توقع ہے، تاہم منصوبے کے مکمل فعال ہونے اور باضابطہ افتتاح کی حتمی تاریخ تاحال سامنے نہیں آسکی۔ شہریوں نے منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور اس کی تکمیل کے حوالے سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزیدپڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، مستحق خواتین کی شکایات کے ازالے کے لیے اہم اقدامات















