اسلام آباد(اے بی این نیوز) عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 11 نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس مقرر کر دیے، جن کے تحت حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف اہداف کے مطابق پارلیمنٹ سے منظور کرائے گی۔
ذرائع کے مطابق اسپیشل اکنامک زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کیلئے دی جانے والی ٹیکس مراعات مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ سرمایہ کاری بورڈ اور اسپیشل اکنامک زونز کے ٹیکس مراعات دینے کے اختیارات بھی واپس لیے جائیں گے۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کی تمام مالی مراعات 2035 تک ختم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف شرائط کے تحت ٹیکس آڈٹ کیسز کی نگرانی کیلئے کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے اور جامع آڈٹ پالیسی و آڈٹ مینول تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپرا قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے سرکاری اداروں کو دی جانے والی خصوصی رعایت ختم کی جائے گی جبکہ نیب میں میرٹ پر مبنی تقرریوں اور شفافیت بڑھانے کیلئے اصلاحات بھی متوقع ہیں۔
اسٹیٹ بینک فارن ایکسچینج نظام میں بتدریج نرمی کا روڈ میپ تیار کرے گا جبکہ گیس اور بجلی ٹیرف میں ردوبدل کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ توانائی کی قیمتیں لاگت کے مطابق برقرار رہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بے نظیر کفالت پروگرام کی امداد مہنگائی کی شرح کے مطابق بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جہاں کاروباری قوانین ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: آج بروز جمعہ چاندی کی تازہ ترین قیمت















