اسلام آباد (اے بی این نیوز) سابق وزیراعظم اور عوامی پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ آج پیٹرول کی صورتحال پر حقائق آپ کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔ جنگ شروع ہوتے ہی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی روکنا حکومت کا کام ہے۔ حکومت یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ پٹرول کی صورتحال کو کیسے سنبھالا جائے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے، حکومت الیکٹرک گاڑیوں خصوصاً الیکٹرک موٹرسائیکل پر توجہ دے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے، مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے، کوئی خطرہ نہیں ہوگا کہ کوئی ڈی ریگولیٹ کرکے پیسہ بنائے، قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرکے وزیراعظم کو آدھی رات کو قیمتیں کم یا بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے، وہ پیسہ عوام سے لیا گیا، الیکٹرک وہیکل پالیسی پر توجہ دیں، یہ دونوں کام کرنے سے 6 ارب ڈالر کا بوجھ کم ہو جائے گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سولر انقلاب آیا، دنیا نے اسے تسلیم کیا، ملک میں سولر انقلاب حکومتی مداخلت کے بغیر آیا، عوام نے حکومت کے تعاون کے بغیر 26 ہزار میگاواٹ کے سولر سسٹم لگائے۔ ہم واحد ملک ہیں جہاں سولر پر ٹیکس لگایا جاتا ہے، عوام نے اپنے پیسے سے سولر خود لگایا، حکومت نے ٹیکس لگایا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کس سطح پر ہے؟ ہر طرف کرپشن ہے، ملک میں کرپشن کا کیا حال ہے، سب جانتے ہیں، پیسے کی تقسیم کسی مسئلے کا حل نہیں، پالیسیاں بنائیں۔
عوامی پاکستان پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ایل این جی کا مسئلہ اب حل ہو گیا ہے، ایل این جی اب پاکستان میں نہیں آرہی، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایل این جی مسئلہ ہے تو لینا چھوڑ دیں، دنیا کا سستا ترین ایل این جی ٹرمینل پاکستان میں بنایا جائے، پالیسی یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر ایل این جی لائے، حکومت اس معاملے سے باہر نکلے۔
مزیدپڑھیں:کسے ملے گا ٹکٹ؟ پی ٹی آئی کے اندر بڑا جھگڑا سامنے آگیا















