اہم خبریں

پاکستان اور افغان طالبان میں سفارتی پیش رفت، چین کی ثالثی میں ارومچی مذاکرات سے بریک تھرو کا امکان

اسلام آباد(رضوان عباسی)پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چین کی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کے شہر ارومچی میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ورکنگ لیول مذاکرات جاری ہیں، جنہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سیکیورٹی، سرحدی نظم و نسق اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کر رہے ہیں جبکہ افغان وفد میں بھی اعلیٰ سطح کے حکام شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق اس سفارتی عمل کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے مثبت پیش رفت متوقع ہے۔

اس کے علاوہ سہ فریقی تعاون خصوصاً چین کے ساتھ اقتصادی اور علاقائی روابط کو فروغ دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر بنانے اور قانونی تجارت کو فروغ دینے جیسے نکات بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کیے جانے کا بھی امکان ہے، جبکہ موجودہ بات چیت کو پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات میں ممکنہ بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات سرحدی سیکیورٹی، کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے الزامات رہے ہیں۔ پاکستان متعدد بار افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے جبکہ افغان طالبان بھی سرحدی معاملات پر اپنے مؤقف پر قائم رہے ہیں۔

چین نے خطے میں استحکام کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے کیونکہ بیجنگ نہ صرف علاقائی امن کا خواہاں ہے بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور خطے میں تجارتی روابط کے فروغ کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ موجودہ مذاکرات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیے جا رہے ہیں، جن سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے گی۔
مزید پڑھیں: باجوڑ، ماندل کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق

متعلقہ خبریں