اسلام آباد/واشنگٹن/تہران(نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق اہم رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی تیاری کی جا رہی ہے جو ممکنہ براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک، جن میں ترکیہ، مصر اور پاکستان شامل ہیں، گزشتہ دو روز سے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے الگ الگ طور پر امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کیے۔اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ممکنہ ٹیلی فونک رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ رابطہ قائم ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں آئندہ چند دنوں میں اسلام آباد میں اہم براہِ راست ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام متنازع امور کا حل تلاش کرنا ہے۔ “ثالثی کا عمل جاری ہے اور مثبت پیشرفت ہو رہی ہے، جلد اہم نتائج سامنے آ سکتے ہیں”، دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نمائندے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور کئی اہم نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے، یورینیم افزودگی روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ کے مطابق ان مذاکرات کی بنیاد پر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے ہیں تاکہ سفارتی عمل کو موقع دیا جا سکے۔تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے ایسے کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی، البتہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ضرور کر رہے ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کا علم تھا، تاہم حالیہ پیشرفت کی رفتار نے انہیں بھی حیران کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف کا مذاکراتی عمل میں شامل ہونا اہم پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ملکی قیادت میں بااثر اور قابل اعتماد شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جبکہ ایران نے جوابی طور پر خطے میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی۔تاہم اب سفارتی کوششوں کے باعث کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے اور عالمی مارکیٹس میں بھی استحکام کے آثار نظر آ رہے ہیں۔















