تہران (اے بی این نیوز) پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن میں ریڈار سسٹم، ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور رن ویز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے تازہ ترین مرحلے میں نئی نسل کے میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے اور ان حملوں کا ہدف امریکی ٹھکانے تھے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، سب سے اہم ہدف متحدہ عرب امارات کا الظفرہ ایئربیس تھا، جہاں درست طریقے سے رہنمائی کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز نے جدید ریڈار سسٹم، MQ-9 ڈرونز کے ہینگرز اور امریکی جاسوس طیاروں (U-2) سے متعلق سہولیات کو تباہ کر دیا۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ کویت میں علی سالم ایئر بیس پر بھی کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس سے ریڈار سسٹم، ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور امریکی طیاروں کے زیر استعمال دو رن ویز کو نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ “80 سے زائد لڑاکا طیاروں” نے ہفتے کے روز تہران اور وسطی ایران میں فوجی مقامات، میزائل لانچنگ پیڈز اور دیگر اہداف پر حملہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے “فضائی حملوں کا ایک اضافی مرحلہ” مکمل کر لیا ہے۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں اسرائیلی فضائیہ کے 80 سے زائد لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں پاسداران انقلاب کی مرکزی ملٹری یونیورسٹی امام حسین یونیورسٹی سمیت متعدد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں افسران کو تربیت دی جاتی تھی۔
مزید بتایا گیا کہ ایرانی میزائل یونٹ کے ذخیرہ کرنے کی سہولت اور ایک زیر زمین بیلسٹک میزائل مرکز جہاں سینکڑوں اہلکار موجود تھے، کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں کا پتہ لگا لیا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق ان میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل میں موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ بھیج دیا گیا ہے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرول و ڈیزل مہنگا، ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہوشربا اضافہ! جانیں نیا کرایہ کتنا؟















