کراچی (اے بی این نیوز) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سندھ موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھ میں ٹریفک حادثات کے متاثرین کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق ترمیم کے تحت گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کو لازمی شرط کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس قدم کے بعد کوئی بھی گاڑی بغیر انشورنس کے رجسٹرڈ نہیں ہوگی۔
ترمیم کے مطابق گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی اور ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑک حادثات سے متاثرہ افراد کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت حادثے میں کسی شخص کی موت کی صورت میں متاثرہ خاندان کو سات لاکھ روپے تک کی انشورنس رقم دی جائے گی جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں متاثرہ شخص کو پانچ لاکھ روپے تک کا معاوضہ دیا جائے گا۔
کمیشن حکام کے مطابق تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کو گاڑیوں کی رجسٹریشن سسٹم کا حصہ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسیوں کی تصدیق کے لیے ایک آن لائن ڈیٹا بیس بھی تیار کیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گاڑیوں کے روٹ پرمٹ کو انشورنس سسٹم سے منسلک کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک بھر میں حادثے کے شکار افراد کو بہتر مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پیٹرول مہنگا، طالبات کی کلاسز آن لائن کرانے کا فیصلہ ، جانیں تفصیلات















