تہران (اے بی این نیوز) امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران ’قیامت‘ نامی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل دنیا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے غیر مسلح منٹ مین تھری بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے ’ڈومس ڈے میزائل‘ کا نام دیا گیا ہے۔
ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ نے 3 مارچ کو کیلیفورنیا میں وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے اس میزائل کے دو ٹیسٹ کیے تھے۔
کمانڈ کے مطابق اس لانچ کی منصوبہ بندی عالمی حالات کے تناظر میں نہیں کی گئی تھی بلکہ کئی سال پہلے طے کی گئی تھی۔
🚨🇺🇸U.S. just tested a Minuteman III ballistic missile off the California coast while war rages in Iran.
The ICBM can carry nuclear warheads 20x more powerful than Hiroshima and travel 6,000 miles at 15,000 mph.
It hit its target near the Marshall Islands.
Pentagon says it was… https://t.co/0Xqjtatg7T pic.twitter.com/xYUN2yGOvj
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 5, 2026
🚨🇺🇸🇮🇷 BREAKING: U.S. F-15E Strike Eagle reportedly crashed during a mission over southwestern Iran early Wednesday.
At least one source attributes the crash to Iranian air defenses, as reported by @sentdefender
Both the pilot and weapons systems officer ejected safely over… https://t.co/jsP6LnoPcJ pic.twitter.com/mWrqeseOqa
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 5, 2026
ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا پر مبنی پروگرام کا ایک اہم جزو ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس میں 300 سے زائد ٹیسٹ شامل ہیں جو ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی کی تصدیق کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ان معمول کے ٹیسٹوں سے حاصل کردہ ڈیٹا موجودہ اور مستقبل کی قوت کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تجربے کے دوران، دونوں میزائلوں نے مارشل آئی لینڈ کے کوجالین ایٹول میں اپنے مطلوبہ ہدف تک ہزاروں میل کا سفر طے کیا۔
یہ طویل فاصلے کی پرواز 377 ویں ٹیسٹ اور ایویلیوایشن گروپ کے انجینئرز اور ہتھیاروں کے ماہرین کو میزائل کی درستگی کے بارے میں قیمتی ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے، جس سے ہر ایک جز کی کارکردگی کی تصدیق ہوتی ہے۔
امریکہ نے گزشتہ سال نومبر میں منٹ مین III کا تجربہ بھی کیا تھا۔
منٹ مین III کو ‘ڈوم ڈے میزائل’ کیوں کہا جاتا ہے؟
منٹ مین تھری میزائل کی رینج 13000 کلومیٹر ہے یعنی یہ زمین کے کسی بھی حصے تک جا سکتا ہے۔
یہ امریکہ میں زمین سے مار کرنے والا واحد بیلسٹک میزائل ہے جو ایٹمی وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔
یہ تین آزاد وار ہیڈز لے جا سکتا ہے جو مختلف سمتوں میں ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے لیکن موجودہ معاہدے کے تحت فی میزائل صرف ایک وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔
ڈومس ڈے میزائل کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس سے خارج ہونے والی تابکاری زمین پر زندگی کو مشکل بنا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع، اہم تفصیلات سامنے آگئیں















