اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں ٹیکنیکل ماہرین اور عملے کی شدید کمی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث سائبر جرائم سے متعلق ہزاروں شکایات زیر التوا ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایجنسی نے وزارت داخلہ پاکستان کو گریڈ ایک سے گریڈ 18 تک کی 800 سے زائد نئی آسامیوں کی منظوری کیلئے درخواست دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سائبر کرائم سے متعلق تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار شکایات ایجنسی میں زیر التوا ہیں جبکہ افرادی قوت کی کمی کے باعث کام کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نئی آسامیوں کی منظوری کیلئے وزارت خزانہ پاکستان سے اجازت حاصل کرے گی۔
معلومات کے مطابق این سی سی آئی اے میں فیز ون اور فیز ٹو کے تحت مجموعی طور پر 162 آسامیوں پر بھرتیاں کی گئی تھیں، تاہم فیز ٹو کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کے کنٹریکٹ جون 2026 میں ختم ہو رہے ہیں جبکہ فیز تھری کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کے کنٹریکٹ فروری میں ختم ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے مبینہ بدعنوانی کی شکایات کے باعث بعض ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ملازمین نے کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جہاں درخواست زیر سماعت ہے۔



مزید پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ،لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید، 5فتنہ الخوارج مارے گئے















