اسلام آباد(اے بی این نیوز)عدالت عظمیٰ نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، جس کے بعد رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے کی، دورانِ سماعت وکلا نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ میں شامل دفعات قابلِ ضمانت ہیں اور ملزم تفتیش میں تعاون کے لیے تیار ہے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست منظور کر لی۔
خیال رہے کہ سہراب برکت کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، وہ اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر قید ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر ان کی رہائی متوقع ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صحافتی حلقوں کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔
عدالت عظمیٰ کے اس اقدام کو آئندہ سماعتوں میں ایک نظیر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ، بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی سماعت کا معاملہ
۔















