نئی دہلی (اے بی این نیوز) امریکا کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آیا ہے جس پر انہیں اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی جانب سے بنائی گئی ایک طنزیہ ویڈیو کانگریس کے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی گئی ہے، جس میں جیفری ایپسٹین اور مودی کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین فائلوں کی دستاویزات کے مطابق بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اے آئی کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں مودی بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے مشورہ کر رہے ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ان کے مشورے کے مطابق اسرائیل میں ڈانس بھی کر رہے ہیں۔
کانگریس کی طرف سے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ‘سمجھوتہ کر رہے ہیں’۔
PM Modi is compromised pic.twitter.com/dMhnahd0vu
— Congress (@INCIndia) February 3, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے متعلق 30 لاکھ صفحات جاری کیے تھے۔ تازہ ترین دستاویزات میں 2,000 ویڈیوز اور 180,000 سے زیادہ تصاویر شامل ہیں۔ کچھ مواد چھپا دیا گیا ہے اور کچھ صفحات مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہو گئے ہیں۔
ایپسٹین فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی آیا ہے جس سے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ مودی کے تعلقات بھارت کے لیے انتہائی شرمناک ہیں۔
کانگریس کے مطابق ایپسٹین نے ای میل میں واضح طور پر لکھا کہ مودی نے ان کا مشورہ لیا اور اسرائیل چلے گئے۔ مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے فائدے کے لیے رقص بھی کیا اور گایا بھی۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے 4 سے 6 جولائی 2017 تک اسرائیل کا دورہ کیا، ایپسٹین کی ای میل مودی کے دورہ اسرائیل کے 3 دن بعد لکھی گئی، اسرائیل کے دورے سے قبل مودی نے جون 2017 میں امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات کی، اس سے واضح ہوا کہ جیفری ایپسٹین سے مودی کا گہرا اور پرانا تعلق ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے جس کے لیے مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ مودی کو بتانا چاہیے کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کیا مشورہ لے رہے تھے؟ مودی نے اسرائیل میں ڈانس کیوں کیا؟ ٹرمپ کو اس سے کیا فائدہ ہوا؟ ایپسٹین نے مودی کے دورے کو کامیاب قرار دینے کا کیا مطلب؟ قوم جاننا چاہتی ہے کہ آپ کا جیفری ایپسٹین سے کیا تعلق ہے؟
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی اور ان کے دورہ اسرائیل کا ذکر کرنے والے ای میل پیغام کو مسترد کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا کہ جولائی 2017 میں وزیر اعظم مودی کا اسرائیل کا سرکاری دورہ ایک حقیقت ہے، لیکن ای میل میں دیگر تمام مبہم حوالہ جات ایک سزا یافتہ مجرم کے بیکار خیالات ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکہ کا ایران سے متعلق بڑا دعویٰ سامنے آگیا ، جانیے اہم تفصیلات















