اہم خبریں

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاوزیراعظم کو باضابطہ خط ، جانیے اہم تفصیلات

اسلام آباد (اے بی این نیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی طور پر مطلوبہ وفاقی فنڈز کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے خط میں واضح کیا ہے کہ وفاقی فنڈز کی منتقلی میں مسلسل تاخیر صوبے کو شدید مالی بحران میں ڈال رہی ہے جس کے نتیجے میں صوبائی گورننس، بجٹ پر عمل درآمد اور عوامی خدمات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ صوبائی بجٹ آئینی مالیاتی حقوق اور متوقع وفاقی ریلیز کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا تاہم عملی طور پر اصل ریلیز بجٹ کے اہداف سے نمایاں طور پر کم رہے ہیں۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ 658 ارب روپے کے مقابلے میں فیڈرل ڈسٹری بیوبل پول سے اب تک صرف 604 ارب روپے موصول ہوئے ہیں جس سے 54 ارب روپے کا واضح شارٹ فال پیدا ہوا ہے جس سے کیش مینجمنٹ اور ترقیاتی و سماجی منصوبوں کی بروقت تکمیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

محمد سہیل آفریدی نے زور دے کر کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہے اور قومی سطح پر بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔

انسداد دہشت گردی، سیلاب کی بحالی، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال اور امن و امان کی بحالی جیسے معاملات کا مالی بوجھ صوبے پر ڈالا جا رہا ہے جو کہ درحقیقت قومی ذمہ داریاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خالص ہائیڈل منافع، تیل و گیس کی رائلٹی اور این ایف سی کی منتقلی آئینی ذمہ داری ہے اور این ایف سی کی باقاعدہ ماہانہ منتقلی کو روکنا نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ تعاون پر مبنی وفاقیت کی روح کے بھی منافی ہے۔

خط میں وزیراعلیٰ نے انضمام شدہ اضلاع کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اضلاع کے لیے صوبائی سطح پر 292 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاق کی جانب سے اب تک صرف 56 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ وفاقی سطح پر تاخیر سے انضمام کے مقاصد کو نقصان پہنچا ہے اور قومی اتحاد بھی کمزور ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی واجبات کی فوری اور غیر مشروط ادائیگی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ مزید تاخیر سے صوبے پر مالی دباؤ بڑھے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی کی منتقلی، خالص ہائیڈل منافع، تیل اور گیس کی رائلٹی اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز آئینی تقاضوں کے مطابق فوری طور پر جاری کیے جائیں۔

خط کے آخر میں وزیراعلیٰ نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کی فوری اور ذاتی توجہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر صوبے پر مزید مالی دباؤ کا باعث بنے گی۔
8 فروری کو ہڑتال پر اپوزیشن اتحاد کا مشاورتی فیصلہ سامنے آگیامزید پڑھیں‌:

متعلقہ خبریں