اہم خبریں

پاکستان میں سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کی کھلی تنقید

اسلام آباد (اے بی این نیوز)مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یورپ کے سرمایہ کار پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں اور موجودہ ٹیکس بوجھ اور کاروباری ماحول کے ساتھ نئی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@8‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ دنیا میں سب سے مہنگی لاگت کے ساتھ پاکستان میں فیکٹری لگانا ممکن نہیں۔ صرف بیانات سے سرمایہ کاری نہیں آئے گی بلکہ عملی اصلاحات اور ریگولیٹری نظام کی بہتری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ماحول غیر یقینی ہو تو کوئی صنعت کار رسک نہیں لیتا، حکومت کو ٹیکس اور پالیسی فریم ورک پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی موجودہ مالیت 75 ارب ڈالر ہے، اور نئی کمپنیوں کی لسٹنگ نہیں ہو رہی، بلکہ کمپنیاں مارکیٹ چھوڑ رہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے چیلنجز پہاڑ کی طرح کھڑے ہیں اور پاکستان گزشتہ چار سال سے معاشی جمود کا شکار ہے۔ بھارت عالمی سطح پر یورپی یونین اور یو اے ای کے ساتھ معاشی معاہدے کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے قابل اعتماد ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب، سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) شیخ روحیل اصغر نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف واضح موقف نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردی ہوتی ہے تو مذمت مشروط ہو جاتی ہے، اور پاکستانیوں کی لاشیں گرتی رہتی ہیں لیکن بیانات نہیں آتے۔

شیخ روحیل نے کہا کہ ملاقاتوں کے ضابطے کو دانستہ طور پر توڑا گیا، اور اڈیالہ جیل میں ہزاروں قیدیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، منتخب افراد کے لیے نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر نواز شریف وفاق میں فعال ہو جائیں تو تمام انتظامی راستے وہیں پر موثر ہوں گے، اور پنجاب میں براہ راست مداخلت نظام کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ دونوں شخصیات ایک دوسرے کو سیاسی سپیس دے رہی ہیں تاکہ نظام کو مؤثر طریقے سے چلایا جا سکے۔
مزید پڑھیں‌:حافظ حمد اللہ نے 8فروری کو ’یوم سیاہ ‘منانے کا بڑا اعلان کر دیا

متعلقہ خبریں