اسلام آباد (اے بی این نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں اور سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا موقف سننا چاہیے، تاہم عملی مذاکرات کا ماحول نظر نہیں آ رہا۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@8‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسا ماحول بنانا چاہیے تھا جو جمہوری مفاہمت کو فروغ دے۔ پارلیمنٹ کے اندر تصادم کے بجائے مفاہمت کا ماحول ہونا چاہیے تھا، لیکن موجودہ حکومت ووٹ کے بجائے طاقت کے بل پر قائم ہے اور اہم فیصلے پارلیمنٹ سے باہر طے ہو کر صرف منظوری کے لیے لائے جاتے ہیں۔ حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ایسی حکومت کے پاس بامعنی مذاکرات کا اختیار موجود نہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مذاکرات کی باتیں عوام کو ورغلانے کے مترادف ہیں کیونکہ حکومت کا اختیار بانی تحریک انصاف سے ملاقات یا انصاف دلانے تک محدود نہیں، اصل اختیار کہیں اور ہے۔
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کو جمعیت علمائے اسلام مسترد کر چکی ہے اور یہ جعلی پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں۔ 8 فروری کو یوم سیاہ منانے پر غور کیا جا رہا ہے اور احتجاج کی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم میں سب سے زیادہ قربانیاں جمعیت علمائے اسلام نے دی ہیں، لانگ مارچ، مہنگائی مارچ اور آزادی مارچ میں جے یو آئی کا سو فیصد کردار رہا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اصولی بات چیت ہوئی مگر قیادت کی جانب سے جواب نہ آیا۔ اختلافات کے باوجود احتجاج عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرے گا۔
مزید پڑھیں:تعلیمی اداروں میں امتحانات ملتوی، نیا شیڈول جاری















