اسلام آباد (اے بی این نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستانی قوم کی ہمدردی بے مثال ہے اور پاکستان امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہنا پاکستان کی اصولی پالیسی ہے اور امن مشن میں جانے والی پاکستانی فورسز کے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی۔
اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فلسطین کے نام پر محض نعرے اور ریلیاں سیاست بن چکی ہیں۔ جو لوگ خود کچھ نہیں کر سکتے، وہ اقدامات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی طرف سے ہر رکن اسمبلی کو آئین کے تحت آزادانہ رائے دینے کا حق حاصل ہے اور اختلافِ رائے کو وضاحت طلبی یا شور میں بدلنا درست نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم پر حکومت کی کوئی پالیسی تبدیلی یا ختم کرنے کا ارادہ نہیں، اور اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی صرف قومی مفاد اور بہتری کے لیے ہوگی۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی صوبے کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتفاق رائے کی کوششیں جاری ہیں اور اگر اتفاق ہو گیا تو یہ ترمیم عید سے پہلے بھی ممکنہ طور پر آ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی میں تبدیلی قومی مفاد اور بجٹ کی روانی کے لیے ضروری ہے اور رول بیک یا حقوق کی پامالی کا کوئی ارادہ نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مثبت مذاکرات کے لیے تیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے اور اظہارِ رائے پر پابندی آئینی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 8 فروری کی کال واپس لینے پر حکومتی موقف واضح ہے۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کی اہم راہنما کیلئے خبر غم















